Explore the rich world of Islamic teachings, history, and culture through our insightful blog. Discover articles on Quranic interpretations, Hadith explanations, Islamic history, contemporary issues, and more. Join us on a journey of learning and understanding as we delve into the beauty and wisdom of Islam.

Articles by "Urdu islamic article"

 دین اسلام کی جامعیت عملی زندگی کی رہنمای ،دنیا وآخرت کی کامیابی کے لیے واضح اور دو ٹوک پیغام حیات ہے انسانیت کا درست خطوط پر قایم ہونا دنیا و آخرت کی کامیابی کے نظریے سے زندگی بسر کرنا اﷲ کو مطلوب ہے۔انسانیت اﷲ کو محبوب ہے اور انسانی ترقی کے لیے اﷲ نے ا نبیاہ کا سلسلہ قایہم فرمایا حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیاہ انسانیت کی رہنمای کے لیے دنیا میں تشریف لاے۔یس قاینات کا نظام چلانے والی طاقت و قوت اﷲ واحد ہے۔انبیاہ خلیفتہ اﷲ فی الآرض ہے اور اس زمین پر اﷲ کے خلیفہ اور نایب بھی۔اس کرہارض کی بنیادی اتھارٹی اﷲ کے بعد انبیاہ کے زوات قدسیہ ہے اور ان انبیاہ میں سے امام الآنبیاہ حضرت محمد ﷺ ہے پورے کرہارض کی تمام انسانوں کی طرف مبعوش ہوے باقی انبیاہ تو اپنی اپنی اقوام کی طرف مبعوث ہوے تھے حضور ﷺ نے فرمایا :کہ میری بعثت تمام انسانیت کی طرف ہے یعنی انسانو میں اعلیٰ نمونے کا میعار ہی فرد کامل فرد جامع حضور اقدس ﷺ کی ذات گرامی ہے ٓٓٓٓآپﷺ اس دنیا میں دین حق کا نظام قایم کرنے کے لیے تشریف لاے ۔ اور وہ صرف کسی ایک قوم نسل اور علاقے تک محدود نہیں بلکہ کل انسانیت کی فلاح و بہبود تمام علاقوں کے لیے ایک بین الآ قوامی نظام ہے۔یقینا آپﷺ اور آپﷺ کی تیار کردہ جماعت نے ایسا بین الآقوامی نطام چودہ سو سال پہلے قایم کر کے دکھایا اور آپﷺ کے بعد آپﷺ کے خلفاء انبیاہ کی بین الآٓقوامی آتھارٹی کا نظام قایم کر نے والے ہیں اور نبیﷺ کے غلبے کا یہ نظام تقریبا سو بارہ سو سال تک پوری دنیا میں غالب رہاگویا ہزار ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نبیﷺ اور ان کی تربیت یافتہ جماعت کے تاریخی تسلسل کے نتیجے میں کل انسانیت کی فلاح وبہبود کا عالمگیر نظام قایم ہوا ۔مسلمانوں پر یہ ذمہداری عاید ہوتی ہے کہ وہ حضورﷺ کی اس وراثت کو لے کر دنیا میں دین حق کا عالمگیر نظام قایم کرنے کے لیے اپنی تواناییاں خرچ کرے مسلمان وہی ہے جو اﷲ پر پختہ یقین رکھے اور یقین کا معنی کاینات کا نظام چلانے والی ایک واحد آتھارٹی کو تسلیم کرنا ہے۔

مسلمان ایک عالمگیر آتھارٹی کا حصہ ہوتا ہے وہ ایک ایسی جماعت کا حصہ ہے جسے دنیا میں وہ سسٹم قایم کرنا ہے جو محمد ﷺ لے کر آے اور یہ سسٹم محض رسمی نہیں ان پر یہ لازمی قرار دیا ہے کہ: محبت لازمی ہے اﷲ اور رسولﷺ محبت ہے اور یہ محبت کا جذبہ دراصل ڈسپلن قایم کرنے کے لیے جان مال قربان کرنے کی اہلیت و صلاحیت پیداکرے محبت یہ ہے جو ایک نتیجہ پیدا کرتی ہے مھبت نہ ہو تو فرمانبرداری نہیں ہوتی دل کی چاہت سے جب کام کیا جاتا ہے تو وہ حقیقی فرمانبرداری ہے اور یہ درست نتیجہ قایم کرتی ہے یہے دلی لگن اور محبت و عشق حضورﷺ کی اتھارٹی کے ساتھ قایم کرنا ہوتا ہے اسکی محبت کے بغیر دنیا میں کویے نتیجہ پیدا نہیں ہوتا یہے دراصل انسان کے اندر وہ تحریک پیداکرتی ہے جسکی اساس پر انسان فرمانبردار بن جاتا ہے اور ان اھکامات کا نظام قایم کرتا ہے جو محبوب اور معشوق کی ھدایات کی روشنی میں انسانیت کے سامنے آتا ہے گویا کہ عشق ینسانی دل ودماغ پر وجود کے اندر وہ آگ بھر دیتا ہے ،وہ تحریک پیدا کرتا ہے،وہ جذبہ بیدار کرتا ہے جسکے نتیجے میں وہ دین حق کا نظام قایم کرنے کے لیے اسے جان کی قربانی دینی پڑے محنت و مشقت سے کمایا ہوا مال خرچ کرنی پڑ؁ حتیٰ کہ خاندان بھی قربان کرنا پڑے تو قربان کردیتا ہے۔محبت اور عشق کے بغیر سسٹم قایم نہیں ہوتا اب یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اس عشق و محبت کا تعلق انسانی روح کے ساتھ ہے اور انسانی روح کے تین پردے ہیں پہلی کا تعلق انسانی نفس سے ہے دوسرا دایرہ قلب انسانی ہے اور تیسرا عقل ۔اس طرھ محبت کے بھی تین مراکز ہیں محبت نفسانی ،محبت قلبی اور محبت عقلی ۔
اس طرح محبت کی اقسام بھی درجہ ذیل بنتی ہیں 
۱۔ نفسانی محبت : اگر نفس کے تقاضوں سے محبت ہو تو یہ نفسانی محبت ہے
۲۔ قلبی محبت: قلب کی محبت جرائت اور دلیری پیدا کرتی ہے ہمت بیدار کرتی ہے
۳۔عقلی محبت : اس سے مراد عقل و شعور کی بنیاد پر چیزوں کا درست تجزیہ کرنا ہے

گویا بیوی کی محبت دنیاوی معشوقوں کی محبت ،محض روایتی اور رسمی ماں باپ کی محبت نفسانی ہے نفس کے تقاضے سے ھے اور ایک محبت کا مرکز قلب ھے قلب کی محبت جرائت اور دلیری پیدا کرتی ہے نفس کی محبت دنیا کی آسایشیاں کا مطالبہ کرتی ہے اگر نفسانی محبت ہو تو اسکے مقاصد و اہداف نفس کی مطلوبات روٹی کپڑا مال دولت دنیا کی محض عیاشی ہیں جب نفسانی عشق ہوتا ہے تو نفسانی راحتوں کی تلاش کے لیے انسان آگے بڑھتاہے لیکن جب عشق کا مرکز دل ہوتا ہے تو وہ بہادری اور جرائت پیدا کر تا ہے کہ جس کے ساتھ عشق ہو اسکے لیے جان لڑادی اور ہمت طاقت اوعر قوت کا مظاہرہ کیاجسکے ساتھ عشق ہو اسکے کام کو پورا کرنے کا عزم کیا اس عشق نے دل کے اندر تحریک بیدار کی اور جب یہپ ارادہ ،عزم،جراء ت اور ہمت پیدا ہو جاے تو دنیا کی کوی طاقت راستہ نہیں روک سکتی اسکے راستے میں پہاڑ آے ،مصیبت آے یا سامراجی اور طاغوتی قوت آے اسکا ارادہ متزلزل نہیں ہو سکتا کیونکہ عشق کی آگ لگی ہوی ہے ایسا ہی عشق کا تیسرا دایرہ عقلی محبت ہے یعنی عقل اور شعور کی بنیاد پر چیزوں کا درست تجزیہ کرنا ہے عقل کا کام حالات و واقعات کے گردوپیش کے حقایق تدبر و تفکر ،تجزیہ کرنے کی صحیح مطلوبہ نتایج ھاصل کرنے کی اھلیت اور صلاحیت پیدا کرنا ہے نفسانی عشق ہو جاے اور قلبی عشق ہو جاے جراء ت و ہمت پیدا ہو جاے اور انسان ہر چیز کے ساتھ لڑ پڑے تو عقل راستے میں رکاوٹ بنتی ھے محبت عقلی عقل کی بنیاد پر معشوق کے احکامات کا عملے نظام قایم کرنے کا طریقہ سمجھاتا ہے مکر وفریب سے بچتی ،دھوکہ دہی کے ماحول سے دور بھاگتی حالات و واقعات کے حقایق کا درست تجزیہ کرتی ہے وہ کسی جھانسے میں نہیں آتی قلبی جرائت بلا سوچے سمجھے مار دھاڑ کا عمل نہیں کرتی ۔اگر عقلی محبت ہو تو نفس اور قلب کی محبت عقل پر غالب آکر انسانیت کی تباہے اور بربادی نہیں کرتی یعنی سب سے اونچے درجے کی محبت عقلی محبت ہوتی ہے نفسانی محبت ناقص اور ادھوری ہے نفس کی محبت ہو لیکن قلب کی جرات نہ ھو تو وہ عشق ڈھیلا ہوتا ہے قلب کی جرائت نہیں ہے اور نفس کو عشق راغب ہو تو نہ تو اظہار محبت کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی محبت کے لوازمات پر عمل کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے وہ عشق ناکام ہے جسکے پیچھے قلبی جراء ت نہیں اور اگر محبت جرائت والی ہو اور حالات و واقعات کا درست تجزیہ نیہں کیا کسی پھندے میں پھنس گیے کسی کے آلہ کار بن گیے اور کسی کے مقاصد کے لیے جھوٹی محبت میں گرفتار ہو کر استعمال ہو گیے تو مطلوبہ مثبت نتایج کی بجاے منفی نتایج پیدا کیے تو یہ عقلی محبت کا فقدان ہے کونکہ محبت عقلی ہی دراصل درست نتیجہ پیدا کرتی ہے اسطرح خدا اور رسولﷺ سے محبت کا تقاضا جو قرآن میں ہے وہ انسان پوری دنیا وما فیہا حتیٰ کہ خاندان اور مال و آولاد سے بھی زیادہ محبت کرنی ہے جب حضور ﷺ سے محبت عقل و شعور کی بنیاد پر ہو تو وہ تقاضا کرتی ہے کہ نبیﷺ نے کل انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے جو نظام قایم کیا ھے اسکے لیے جدوجہد کیا جاے نفس قلب اور عقل کا استعمال کیا جاے اور اسکا قیام تب ہے ممکن ہو گا کہ کل انسانیت میں سے مخصوص ظالم انسانیت دشمن کفر کا نظام چلانے والی طاقت کو ہدف بنا کر اسکے خاتمے کے لیے جدوجہد کیا جاے کونکہ جب تک نظام غلط ہو تو اچھا کام بھی غلط نتیجہ پیدا کرتا ہے -

آج کا سب سے برا المیہ یہ ہے کہ ہم جو عشق و محبت کے نعرے لگاتے ہیں یہ نفس کے تقاضے سے ہے اسی طرح آج کا عشق رسول کا دعوی بھی ہے عشق و محبت کے اظہار کے لیے اپنی ویڈیو شییر کرنا وغعرہ تمام کا تعلق نفسانی محبت سے ہے ۔اسکا تعلق قلب سے نہیں اور اگر کسی نے قلب کا مظاہرہ کیا بھی تو وہ عقل سے فارغ ہے محض ایسی اندھی جراء ت کہ جسکے نتیجے میں عقل کا استعمال بند ہو جاے وہ بھی منفی نتایج پیدا کرتی ہے عقل وشور کا یہ تقاضا ہے کہ حضور ﷺ سے محبت ہو تو حضورﷺ کے نظام کے برعکس جو سامراجی و طاغوتی نظام معیشت ،سیاست ،معاشرت ،تہذیب و کلچر ہے یسکو ختم کیا جاے اسکا عملی نتیجہ سسٹم کی شکل میں ہونا چاہیے محض دودھ پینے والا مجنوں نہیں بلکہ خون دینے والا مجنوں بننا چاہیے مگر عقل ،فہم و بصارت کے ساتھ ۔

جسطرح مشرکین مکہ حضور ﷺ پر کیا کچھ نہیں اچھالتے مگر صحابہ کرام نے عقل کا مظاہرہ کیا شعور کی بنیاد پر صبر سے کام لیا کھبی عقل سے ماورا کوی کام نہیں کیا اور اس محبت کا نتیجہ دیکھیے کہ ان سب ظالم طبقے کا خاتمہ وہی مسلمانوں کی جماعت کرتی ہے لیکن کب جب عقل کی بنیاد پر ایک سسٹم کا قیام کیا جاتا ہے اسطرح عدم تشدد کے اصول کو بروے کار لا کر مقصد اور ہدف سامنے رکھتے ہوے عقل اور شعور کی بنیاد پر مدینہ منورہ پہنچتے ہے اور اپنا نظام بنا کر کھلی جنگ لڑتے ہیں اس میں اگر عقل کا استعمال نہ ہوتا اور مشرکین کق قتک کردیا جاتا تو لوگ کہتے کہ یہ ذاتی لڑای ہے ۔اس آج بھی عقل وشعور کی بنیاد پر گرد و پیش کے حقایق کا جایزہ لے کر اپنے محبت و عشق کے معاملات کو عقلی بنیادوں پر پیش کرنا ہے اور اسی طرح کامل عشق کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے-

اﷲ تعالیٰ نے انسانیت کی رہبری و رہنمائی کیلئے بعثت انبیاء کا جو سلسلہ شروع فرمایا تھا اور اس کیلئے ایک لاکھ چوبیس ہزار کم و بیش انبیاء و رسل کو مبعوث کیا گیا اور اس سلسلہ کو نبی آخر الزمان سرور دوعالمؐ حضرت محمد ؐ کو بھیجنے کے ساتھ ہمیشہ کیلئے نبوت و رسالت کے اس دروازے کو بند کرنے کے ساتھ تاابد تک کیلئے بعثت انبیاء کا سلسلہ مختتم ہوگیا۔جمیع انبیاء و رسل کی دعوت اور پیغام ایک ہی تھا اگرچہ وقت اور حالات اور قوم کے مطابق ہدایات تبدیل ہوتے رہے مگر خاتم النبیین کی بعثت کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کیلئے صرف ایک دین برحق اور دین محمدیؐ کی پیروی لازمی قرار دی گئی ماسویٰ سے تعلق و رشتہ ناقابل قبول اور مردود ٹھہرا۔اسی سبب سے آپؐ نے قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی کے شب و روز، خوشی و غمی، عبادت و معاملات اور عقائد، انفرادی و اجتماعی، نجی و سماجی ،عائلی و خانگی ،سیاسی و قانونی ہر سطح کے زندگی کے امور کو آپؐ نے واضح انداز میں بیان کردیااور رہنمائی و رہبری کا کماحقہ فریضہ اداکردیا جس کی گواہی خود صحابہ کرامؓ نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر دی اور پھر سید المرسلینؐ نے بھی اﷲ تعالیٰ سے دعاالحاح کے ذریعہ اس کو موثق کردیا کہ میں نے ابلاغ دعوت میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی اور نہ ہی کوئی کمی بیشی کی ۔یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ خود قرآن مجید میں اس بات کو کھلے انداز میں بیان فرمادیاکہ’’آج کے دن ہم نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کردیا اور اپنی نعمت تم پر اسلام کو بطور دین مقرر کرکے پوری کردی‘‘۔

یہی وجہ ہے کہ بعثت کے تئیس سال بعد آپؐ دنیا سے پردہ فرماکرجوار رحمت میں منتقل ہوگئے۔تاہم یوم حساب تک کی بقیہ زندگی میں مسلمانوں کو انبیاء کا وہ بنیادی دعوتی فریضہ کا منصب عنایت کیا گیا ۔جسے خود قرآن حکیم میں بیان ہواہے کہ’’تم خیر امت بناکر بھیجے گئے ہو جو لوگوں کو نیکی و بھلائی کا حکم دیتے ہوئے اور بدی سے منع کرتے ہو‘‘۔اﷲ تعالیٰ کی طرف سے امت محمدیہ کو یہ منصب عطا ہونا معمولی بات نہیں بلکہ یہ بڑے اعزاز و فخر کی بات ہے ۔مگر افسوس کہ ملت اسلامیہ اس فریضہ کو کماحقہ اداکرنے میں پس و پیش سے کام لیتی رہی اور اس میں تفریق و تقسیم کی کوشش کرتی رہی کہ دین کی دعوت و پیغام فقط اہل مدارس، اہل مساجد، اہل اسلام تک محدود رکھا گیا ۔اور اس کے ساتھ ہی قرآن حکیم کے اس پیغام کو اپنی آنکھوں سے اوجھل کردیا کہ ’’ہمارے رب ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائی و خیر عطافرما‘‘صرف چادر و چاردیواری میں مسدود ہوکر نماز، روزہ، حج،زکوٰۃ و عبادت و عقائد کی تصحیح تک محدودہوگئے جبکہ اﷲ تعالیٰ نے تو رسول اکرمؐ کو فرمایا تھا کہ’’ ہم نے آپ کو بھیجا ہدایت دیکر اور دین حق کے ساتھ تاکہ یہ غالب و نافذ ہوجائے تمام ادیان و ملل پر‘‘۔باوجود اس بات کے جاننے کے کہ دنیا کی قیادت و سیادت حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ علوم نقلیہ(کتاب و سنت )کے ساتھ علوم عقلیہ(سائنس، ریاضی، ٹیکنالوجی)وغیرہ کا حصول بھی لازمی وضروری ہے اور طرہ امتیاز تو یہ ہے کہ اسلام میں کہیں دینی و دنیاوی تعلیم کی تفریق و تقسیم کی بات کی ہی نہیں گئی تونامعلوم کم فہم و نادان مسلمانوں نے اضطراری حالت میں اختیار کیئے جانے والے منہج و طریقہ کو ہمیشہ کیلئے فرض ٹھہراکر عصری علوم سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔

دین و دنیا میں تفریق کرنے کے نتیجہ میں مسلمانوں کو اقبال مندی سے ذلت و رسوائی اور کاسہ لیسی کی زندگی کی طرف مجبوراً منتقل ہونا پڑا۔حالانکہ اﷲ تعالیٰ نے خود قرآن میں حصول اقتدار و استخلاف ارضی کے جابجا وعدے فرمائے کہانسان کی بعثت ہی بطور خلیفۃ اﷲ کے کی گئی اور اس کے ساتھ ہی سچے و پکے اور گھرے مسلمانوں سے یہ وعدہ بھی قرآن مجید نے کیا کہ ’’اﷲ تعالیٰ وعدہ کرتاہے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائے اور عمل صالح کو اختیار کرتے ہیں کہ ان کو زمین پر خلافت (حکومت)عنایت کرے گا جیسے ان سے پہلوؤں کو عطاکی‘‘اسی سبب حضور اکرمؐ نے مکہ سے مدینہ ہجرت کرکے اسلامی ریاست کی طرح ڈالی اور بعد میں خلفاء الراشدین، خلفاء بنوامیہ، خلفاء بنوعباس، خلفاء عثمانیہ اور مغلوں نے اسلامی نظام حکومت کو چھ سوسال تک قائم رکھا اور مسلمانوں کے ایام اقتدار میں دنیا بھر میں فرحت و شادمانی کا دور دورہ تھا اور زندگی کے کسی بھی مرحلہ میں کمزور و غریب اور ذمی کے حقوق کو پامال نہیں کیا گیا یہاں تک کہ غیرمسلم خصوصاً یورپ کے باشندے پانچویں صدی سے دسویں صدی عیسویں میں مارے ظلمت و تاریکی کے روشنی حاصل کرنے کیلئے اندلس میں آکر تعلیم و تربیت حاصل کرتے تھے کہ مسلمانوں نے کسی بھی طرح بخل و کنجوسی سے کام نہ لیا بلکہ علمی امانت کو انسانیت کی نفع مندی کی خاطر منتقل کرتے رہے۔ تاہم مغربی اقوام نے احسان فراموشی کو اختیار کرتے ہوئے مسلمانوں سے حاصل شدہ علوم وفنون کے نام بدل کرانہیں اپنی طرف منسوب کرلیا۔اور اس کے ساتھ ظلم کی انتہاء یہاں تک کردی کہ وہ علوم و فنون جن کو مسلمان انسانیت کی خیر و بھلائی کیلئے استعمال کرتے تھے میں تطور پیدا کرکے ایسے آلات تیار کیے کہ جن کے ذریعہ خود انسانیت کے قتل عام کا بدترین نظام قائم کردیا کہ ایٹمی اسلحہ، سامان حرب و ضرب کی تیاری کے بعد اس کی خرید و فروخت اور اس کے استعمال کیلئے دوسری ریاستوں کیخلاف استعمال کرنے میں پس و پیش سے کام نہیں لیا گیا بلکہ اس کا ہوشربا استعمال کرکے ہیروشیما اور ناگاساکی کے بعد عراق و افغانستان، برما، فلسطین، اور کشمیر و شام میں اس کا بدترین استعمال باعث افسوس ناک ہے۔اسی پر بس نہیں ہے کہ امریکہ بہادر نے ظلم و جور کی تاریخ کو دہراتے ہوئے مسلمانوں کے قبلہ اول کو یہود کے زیر نگین دینے کا فیصلہ ہی نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ اس نے مسلم ممالک کے خلاف اپنے زہر و عداوت کو مزید اجاگر کرتے ہوئے پاکستان و سعودی عرب اور ایران ودیگر مسلم ممالک کو خطرناک ممالک کی فہرست میں شمار کرلیا ہے اور مسلم ممالک پر اپنی من چاہی مرضی مسلط کرنے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہاہے ڈولڈٹرمپ پانچ سو ارب ڈالر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات و خلیجی ممالک سے خراج بھی وصول کرچکاہے اور اسی پر بس نہیں لاکھوں مسلمانوں کی جان و مال اور عزت کی پامالی ہر آن و ہر گھڑی ضروری سمجھتا ہے۔تاکہ مسلم ممالک کے مال و دولت اور قوت ایزدی سے اپنے ظالمانہ و جابرانہ اور طاغوتی نظام کو دوام و بقادے سکے ۔

لیکن ہمیں اغیار سے کیا شکوہ کرنا ہے ان سے تو خیر و بھلائی اور صلاح کی توقع رکھنا ہی عبث ہے ،دل و جگر خون کے آنسو تو خود اپنے مسلمانوں کی حالت زار پر بہاتاہے کہ ہم نے اپنے فرض منصبی کو فرموش کردیا اور اغیار کی غلامی و نقالی میں آنکھیں بند کرکے ان کی چلائی گئی ہر انسانیت دشمن ہوا و فضا کو لبیک کہہ کر باہم دست و گریبان ہوتے رہے ہیں ۔کہ دشمنان اسلام ’’کفر ایک ملت ہے‘‘کی عملی مثال بن چکے ہیں کہ روس، امریکہ، بھارت،اسرائیل سمیت تمام کفریہ طاقتیں باہم متحد و متفق ہوکر مسلم ممالک و قوم پر یلغار کرچکے ہیں۔اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ وہ اپنی تباہی و بربادی کی طرف پیش قدمی کررہے ہیں کہ ان کا دور اقتدار ختم و انتہا کو پہنچنے والا ہے تاہم مسلمانوں پر بھی تو ضروری ہے کہ وہ فروعی و نزعی اختلافات خواہ وہ سیاسی ہوں یا مذہبی، علاقائی ہوں یا نسلی ان تمام سے بالاتر ہوکر امت واحدہ بن کر اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے تیارہوجائیں اور کیونکہیوم حشر اس وقت تک بپا ہوگا ہی نہیں کہ مسلمانوں کو حضور اقدسؐ کے فرمان عالی شان کے مطابق دوبارہ اقتدار بطریق خلافت میسر نہ آجائے۔ البتہ اس کیلئے ضروری ہے کہ موجودہ حالات میں عالم کفر کی تمام سازشوں اور کوششوں کو باریک بینی سے ناصرف جائزہ لینے کی ضرورت ہے بلکہ اس کے جواب میں بیک زبان و یک جان بن کر سینہ سپر ہونے کی بھی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ اﷲ کی سنت ہے کہ دین متین کی نصرت کرنے کی صورت میں ہی انسانیت کی مدد کی جائے گی ۔ملت اسلامیہ کے نوجوانوں اور اہل فکر و دانش پر لازمی ہے کہ اسلامی بیداری کی تحریک کو زندہ کریں اور دینی و دنیاوی علوم و فنون کی تحصیل میں پس و پیش سے کام لینے کی بجائے اس میں قائدانہ صلاحیتیں پیدا کرنے کی کوشش کریں۔اور یہ امر اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم دین الٰہی کے ساتھ والہانہ انداز میں محبت ہی نہ کریں بلکہ اس پر عمل کرنے کیلئے انتھک جدوجہد بھی کریں۔ہمیں اﷲ تعالیٰ کی ذات عالی پر بھروسہ کرتے ہوئے کفر کے سامنے سینہ سپر ہوجانا چاہئے قرآن و سنت اور سیرت صحابہ وتابعین و اسلاف پر عمل کرکے ہمیشہ کی کامیابی ہمیں ہی نصیب ہوجائے گی۔بس ضرورت ہے کہ ذمہ داری کااحساس کرتے ہوئے میدان عمل میں اتریں۔فوزوفلاح اور نصرت کا وعدہ الٰہی ضرورپورا ہوگا۔ان شاء اﷲ

پچپن میں ایک خاکہ تصویر کی صورت میں دیکھا تھا کہ قرآن پاک اور خانہ کعبہ پر بڑے بڑے ناخن والے پنجے حملہ آوار ہورہے ہیں ،کافی مدت کے بعد امریکی صدرٹرمپ نے قبلہ اول بیت المقدس کو صہیونی ریاست کا صدرمقام بنانے کا اعلان کر کے اپنے اندر کی آگ جس میں وہ جل رہے تھے کا اظہار کیا ۔صہیونی ریاست نے پہلے بھی ظلم کی چکی یہودیوں کی سرپرستی میں چلائی ہوئی ہے اب کی بار مزید آگ لگا دی ۔امریکی صدر ٹرمپ کا خطرناک اعلان رب کی زمین پہ آگ لگانے کے مترادف ہے ،پہلے ہی رب کی زمین اﷲ والوں کے خون سے رنگین ہے ۔پوری دنیامیں دو ملک ایسے ہیں جو نظریات پہ بنے ہیں ایک تل ابیب (صہیونی ریاست ) اور دوسرا وطن عزیز پاکستان ہے ۔

اولیاء کرام کے گروہ کے ایک سرخیل اسم بامسمیّٰ حضرت میاں ولی الرحمن کھٹانہ مرحوم سابق ممبر صوبائی اسمبلی صوبہ خیبر پختونخواہ نے ایک مرتبہ مرکزی جامع مسجد مانسہرہ کے مرکزی دروازہ پر علماء کرام سے کہا تھاکہ پوری دنیا پر جب خون بہتا ہوا دیکھا جاتا ہے تو تحقیق کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ یہ خون مسلمان کا ہے مسلمان کا بہتا ہوا خون آخر کار رنگ تو لائے گا (ان شاء اﷲ ) کب تک مسلمانوں کا قتلِ عام کیا جاتارہے گا

بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول اور مسلمانوں کی مذہبی میراث ہے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اقدام اسلام دشمنی اور مشرق وسطی میں قیام امن کے عمل کو تباہ کرنے کے مترادف ہے امریکہ دنیا میں انتشار پیدا کرنا چاہتا ہے اس فیصلے سے پوری دنیا میں کشیدگی کی اک نئی لہر اٹھے گی اس فیصلے سے ساری دنیا کے مسلمان اس پر سراپا احتجاج ہیں ہم بھی اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔امریکی صدر کا یہ اعلانیہ پوری دنیا کا امن وامان غارت کرنے کے لیے بنیا دہے ،امریکی صدر کے اعلانات وبیانات خود امریکہ میں بد امنی کا ذریعہ بھی بن رہے ہیں ،سلامتی کونسل نے امریکی صدر کے اعلان کے خلاف قرارداد پیش کر کے فلسطینی مسلمانوں کی حمایت کی اور امریکی صدر کے اس فیصلے کی مذمت کی جو مسلمانوں کے لیے ایک خیر کی بنیاد ہے ۔

مسجد اقصٰی میں تمام انبیاء علیہم السلام نے نبی کریم ﷺ کی اقتداء میں نماز پڑھ کر یہ عملی طور پہ ثابت کر دیاکہ اب یہ مسجد غلامانِ محمد ﷺ کی ہے ۔صہیونی ریاست کا پہلے ہی ناجائز وجود تھا اب مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس پر قبضہ کا اعلان اور بیت المقدس کو دارالحکومت قرار دینا انتہائی درندگی اور بدامنی کے اسباب ہیں ۔
حکیم الاسلام حضرت مولاناقاری محمد طیب نور اﷲ مرقدہ نے اپنا دکھڑا دربارِ رسالتﷺ میں پیش کیا ،آج بھی وہی حالات ہیں ۔قبلہ اول کی پکار اور معصوم فلسطینیوں کے آنسوؤں کو سامنے رکھتے ہیں آنسوؤں کی برسات میں اس کلام کو لکھا جا رہاہے ، حکیم الاسلام ؒ نے جن حالات کو دیکھ کر کلام پیش کیا یقینا آج فلسطین ہی نہیں بلکہ عالم اسلام میں مسلمانوں کی یہی حالت ہے 
؂نبی اکرم شفیع اعظم دکھے دلوں کا پیام لے لو!
تمام دنیا کے ہم ستاے کھڑے ہوے ہیں سلام لے لو!
شکستہ کشتی ہے تیز دھارا نظر سے روپوش ہے کنارا
نہیں ہے کوئی ناخدا ہمارا خبر تو عالی مقام لے لو!
قدم قدم پہ ہے خوف رہزن زمیں بھی دشمن فلک بھی دشمن
زمانہ ہم سے ہواہے بدظن تمہیں محبت سے کام لے لو!
کبھی تقاضاوفا کاہم سے کبھی مذاق جفا ہے ہم سے
تمام دنیاخفاہے ہم سے خبر تو عالی مقام لے لو!
یہ کیسی منزل پہ آگئے ہیں نہ کوئی اپنا نہ ہم کسی کے
تم اپنے دامن میں آج آقا تمام اپنے غلام لے لو!
یہ دل میں ارماں ہے اپنے طیب مزاراقدس پہ جاکے اک دن
سناؤں ان کومیں حال دل کاکہوں میں ان سے سلام لے لو!

آج مسجد اقصی کیلئے فلسطینی عوام کی تحریک بیداری نے ہمارے دل جیت لئے ہیں بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے 13برس تک مکہ اور ہجرت کے بعد 17ماہ تک مدینہ منورہ میں مسجد اقصی کا رخ کر کے ہی نمازیں ادا کیں۔ اسلامی شریعت میں توحید کے بعد نماز کا رتبہ سب سے اعلی ہے اور بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرنے کی تلقین اس کی اہمیت کا پتہ دیتی ہے۔ 

نبی کریمﷺ نے احادیث مبارکہ میں بیت المقدس کے فضائل بیان کئے ہیں۔ یہ وہ پاکیزہ شہر ہے جس کی تعظیم تمام آسمانی مذاہب کی تعلیمات کا اٹوٹ حصہ ہے۔ تمام پیغمبروں نے اس کا اعزاز واکرام کیا۔ یہ وہ شہر ہے جہاں آسمان سے نازل ہونے والی چاروں کتابوں زبور، توریت ، انجیل اور قرآن کریم کی تلاوت کی صدائیں گونجیں۔ اسلام او ربیت المقدس کا رشتہ اٹوٹ ہے۔ یہ نبیوں اورپیغمبروں کی سرزمین ہے۔ یہاں ابراہیم ، اسحاق، یعقوب، یوسف، لوط، داد، سلیمان، صالح،زکریا، یحییٰ اور عیسٰی علیھم السلام سمیت بہت سارے پیغمبروں اور نبیوں نے زندگی گزاری۔ جب مسلمانوں نے بیت القدس فتح کیاتو اس وقت کے عیسائی مذہبی پیشواؤں نے کہا تھا کہ ہم بیت المقدس کی چابیاں صرف خلیفہ المسلمین حضرت عمر بن الخطاب ؓکے حوالے کریں گے۔ مقدس کتابوں میں ان کی ہی خصوصیت اس حوالے سے بیان کی گئی ہے۔ حضرت عمر ؓ نے مدینہ منورہ سے بیت المقدس پہنچ کر چابیاں وصول کی تھیں۔ تاریخ نے یہ روشن سچائی اپنے صفحات میں محفوظ کر رکھی ہے کہ فاتح بیت المقدس حضرت عمر بن خطاب ؓنے نہ تو وہاں کوئی گرجا گھر منہدم کیا نہ ہی یہودیوں کا عبادت گھر زمین بوس کیا اور نہ ہی کسی اور مذہب کے پیروکاروں کے عبادت گاہ کو کسی طرح کا کوئی نقصان پہنچایا۔ انہو ں نے عوام کو عبادت گھروں کے حوالے سے آزادی دی۔ بیت المقدس کے باشندوں کیلئے عہد و پیمان تحریر کئے۔ گواہوں کی شہادتیں قلمبند کرائیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہود و نصاری نے مسلمانوں کے زیر اقتدار اپنی تاریخ کے انتہائی پرسکون ایام بیت المقدس میں گزارے۔فلسطینی عوام کو ایثار، قربانی ، سربلندی اور مستقل مزاجی پر سلام تعظیم پیش کرتے ہیں ۔ آج مسجد اقصی پر حملہ آور ظالم و جابر طاقت قابض ہے۔ یہ سوچ کر ہمارے دل خون کے آنسورونے لگتے ہیں۔ فلسطینی مسلمانوں کی بیداری اور شجاعت نے آج ہمارے دل جیت لئے کہ آج تک وہ ظالم وجابر لوگوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر ڈٹے ہوئے ہیں ان شاء اﷲ وہ وقت دور نہیں جب بیت المقدس پر آزادی کا سورج طلوع ہو گا۔ یقیناقابل مبارکباد ہیں وہ لوگ جنہوں نے راہ حق میں جان کے نذرانے پیش کئے۔

ہم ترکی کے مسلمانوں کو بھی اس موقع پر مبارک باد دیتے ہیں بالخصوص ترک صدر محمد طیب اردگان کو کہ جنہوں نے ہر موقع پر مسلمانوں کی آواز بن کر صداء حق کو بلند کیا اور فلسطین کے مسلمانوں کی مدد کے لیے اپنے آپ کو اور اپنی عوام کو پیش کیا اور انصاف پسند تمام انسانوں کو اس موقع پر صداء حق بلند کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں ساتھ ہی مسلمانوں سے یہ اپیل بھی کرتے ہیں کہ ایک دن نہیں ہمیشہ کے لیے ایک اور نیک بن کر اپنی آوازکو مضبوط کریں اور مسجد اقصیٰ کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھیں اﷲ پاک قبلہ اول مسجد اقصیٰ کی حفاظت فرمائے اور فلسطین کے مسلمانوں کو آزادی جیسی عظیم نعمت عطا فرمائے (آمین)

Jam e Tirmazi Hadees 2516

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَابْنُ لَهِيعَةَ،‏‏‏‏ عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ، قَالَ. ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي، ‏‏‏‏‏‏قَيْسُ بْنُ الْحَجَّاجِ،‏‏‏‏ الْمَعْنَى وَاحِدٌ،‏‏‏‏ عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا غُلَامُ،‏‏‏‏ إِنِّي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ:‏‏‏‏ احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر پیچھے تھا، آپ نے فرمایا: ”اے لڑکے! بیشک میں تمہیں چند اہم باتیں بتلا رہا ہوں: تم اللہ کے احکام کی حفاظت کرو، وہ تمہاری حفاظت فرمائے گا، تو اللہ کے حقوق کا خیال رکھو اسے تم اپنے سامنے پاؤ گے، جب تم کوئی چیز مانگو تو صرف اللہ سے مانگو، جب تو مدد چاہو تو صرف اللہ سے مدد طلب کرو، اور یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تمہیں کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لیے گئے اور ( تقدیر کے ) صحیفے خشک ہو گئے ہیں“ ۱؎۔ 
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ 
Sahih Hadees
Ibn 'Abbas narrated: I was behind the Prophet(s.a.w) one day when he said: 'O boy! I will teach you a statement: Be mindful of Allah and He will protect you. Be mindful of Allah and you will find Him before you. When you ask, ask Allah, and when you seek aid, seek Allah's aid. Know that if the entire creation were to gather together to do something to benefit you- you would never get any benefit except that Allah had written for you. And if they were to gather to do something to harm you- you would never be harmed except that Allah had written for you. The pens are lifted and the pages are dried.' 

*خوبصورت دعائیں* 

*اَللّٰھُمَّ فَقِّھْنِیْ فِی الدِّیْن*ِ 
اے ﷲ! مجھے دین کی سمجھ عطافرما (بخاری)

*اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنِیْ حِسَابًا یَّسِیْرًا*
اے ﷲ! میرے حساب کو آسان فرمادے(مستدرک حاکم)

*یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّت قلبیْ عَلٰی دِیْنِک*َ 
اے دِلوں کو پھیرنے والے !میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ (ترمذی)

*یَامُصرِّفَ الْقُلُوْبِ صَرِّفْ قَلْبِیْ عَلٰی طَاعَتِکَ*
اے دِلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کواپنی اطاعت پر پھیر دے (مسلم)

*اَللّٰھُمَّ اَلْھِمْنِیْ رُشْدِیْ وَاَعِذُّنِیْ مِنْ شَرٍّ نَفْسِیْ* 
اے ﷲ! میرے دل میں ہدایت ڈال دے ،اور مجھے میرے نفس کی برائی سے بچا (ترمذی)

*اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَسَکَرَاتِ الْمَوْت*
اے ﷲ! موت کی سختیوں اور اُس سے طاری ہونے والی بے ہوشیوں میں میری مدد فرما (ترمذی)

*اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُو کَرِیم تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی*
اے ﷲ! تومعاف کرنے والا ،کرم کرنے والاہے۔ اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے سو میرے گناہ معاف کردے (ترمذی)

*اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْھُدٰی وَالتُّقٰی وَالعَفَافَ وَالْغِنٰی*
اے ﷲ!بے شک میں تجھ سے ہدایت، پرہیزگاری ،عفت اور (لوگوں سے )بے پرواہی مانگتا ہوں (مسلم)

*اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ عِلْمًا نَّافِعًا وَّ رِزْقًا طَیِّبًا وَ عَمَلًا مُتَقَبَّلًا*
اے ﷲ!میں تجھ سے نفع دینے والے علم،اور پاکیزہ رزق اور قبول ہونے والے عمل کا سوال کرتاہوں (مشکٰوۃ)

*اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ اَوْسَعَ رِزْقِکَ عَلَیَّ عِنْدَ کِبَرٍ سِنِّیْ وَانْقِطَاعِ عُمُرِیْ*
اے ﷲ!مجھ پر میرے بڑھاپے اور میری عمر کے ختم ہونے تک اپنا رزق کشادہ رکھنا (الحاکم)

*اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغنِنیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاک* َ 
اے ﷲ!میری کفایت کر اپنے حلال کردہ کے ساتھ ،اپنے حرام کردہ سے (بچاکر)میری کفایت کر اور مجھے اپنے فضل سے اپنے سوا ہر کسی سے بے پرواہ کردے (ترمذی)۔

*اَللّٰھُمَّ انْفَعْنِی بِمَا عَلَّمْتَنِیْ وَ عَلِّمْنِیْ مَا یَنْفُعُنِیْ وَ زِدْنِی عِلْمًا*
اے ﷲ!جو تو نے مجھے سکھایاہے اس کے ساتھ مجھے نفع دے اورمجھے سکھا جو مجھے نفع دے اور میرے علم میں اضافہ کر (ابن ماجہ)۔
.
اَللّٰھُمَّ آمین رب العالمین

ہر مسلمان کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اﷲ پاک کا گھر اور دربار رسالتﷺ کی حاضری کا شرف حاصل کرے ۔ بے شک یہ سعادت خوش قسمتی سے نصیب ہوتی ہے۔ جب اﷲ پاک اپنے گھر کسی کو بلانا چاہتے ہیں تو وہ غائب سے وسائل مہیا کر دیتے ہیں یہی وجہ ہے ہم دیکھتے ہیں بعض سفید پوش جن کے پاس مال و دولت بھی ضرور یات زندگی سے زیادہ نہیں ہوتی ۔اﷲ پاک خفیہ طریقے سے مدد فرما کر اپنے پاس بلالیتا ہے۔ذکرواذکار ، محافل نعت اور دیگر اسلامی پروگراموں میں ’’ عمرہ ٹکٹ اور عمرہ پیکج ‘‘ میں بھی خوش نصیبوں کو ’’ درمصطفےٰ ‘‘ میں حاضری کا موقع ملتا ہے۔ یہ بہت بڑی سعادت کی بات ہے کہ اپنے روپے پیسوں ، وقت اور سوچ و بچار کو ’’ دنیاداری کی بجائے اﷲ رسول ﷺ ‘‘ کے رستہ میں لگانا۔ حج و عمرہ کا مقام عالی شان سمجھنے کیلئے

اﷲ پاک کے پیارے محبوب ﷺ کا ارشاد گرامی ہے 
حج و عمرہ میں متابعت سے فقر وتنگدستی اور گناہوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔(ترمذی: 810، صحیح) جبکہ ایک اور حدیث شریف میں کچھ ایسے ذکر ہوا ہے کہ
حج،گزشتہ تمام گناہ مٹا دیتا ہے۔(مسلم: 121) جبکہ 
حج اور عمرہ کرنے والے کی دعاء قبول کی جاتی ہے۔(ابن ماجہ: 2493، حسن)
حج اور عمرہ کی فضیلت بہت بڑی ہے جس کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے ، فرمانِ عالی شان سردارالانبیاء حضرت محمد ﷺ 
حج اور عمرہ کی ادائیگی عورت، کمزور، بوڑھے اور بچے کا جہاد ہے۔(بخاری: 1861، صحیح نسائی: 2463)۔ بخاری شریف میں عمرہ کی فضیلت بیان ہوئی ہے کہ 
رمضان میں عمرہ کا ثواب حج کے برابر ملتا ہے۔(بخاری: 1863، مسلم: 1256)ایک اور حدیث شریف یوں بیان ہوا ہے کہ
حج یا عمرہ کے لیے حالتِ سفر میں رہنے والا شخص فوت ہو جائے تو اس کے لیے مکمل اجر لکھا جاتا ہے۔(صحیح الترغیب: 1114)
اسلام میں ثواب کا دارومداد نیت پر منحصر رکھا گیا ہے ! 
ہمارے اردگرد بہت سارے ایسے مسلمان بھی ہیں جن کو مال و دولت کی فراوانی ، عیش و عشرت کی زندگی اور اس فانی دنیا کی تمام سہولیات میسرہیں مگر اﷲ پاک اور پیارے حبیب نبی کریم ﷺ کے گھرکا دیدار کرنے کی توفیق نہیں یہ بدنصیبی کے علاوہ اور کچھ نہیں
!عاشقان ِ رسول ﷺ ماہ رمضان اور ماہ ربیع الاول میں اپنی زندگیاں مکۃالمکرمہ اور مدینہ شریف میں بسرکرنا چاہتے ہیں ۔ 
افسوس صد افسو س ! کچھ اہل ایمان ہمارے مسلمان بھائی ایسے بھی ہیں جو عاشقان رسول ﷺ کی محبت کا خوب فائدہ اُٹھا تے ہیں جیسا رمضان شریف کے مقدس ماہ کے آتے ہی ضروریات زندگی کی اشیاء کو ’’ گوداموں میں محض اس لئے اسٹاک کر لیا جاتا ہے تاکہ من مانی قیمتیں وصول کی جائیں ۔ ہمارا یہ وطیرہ بن چکا ہے کوئی بھی اسلامی تہوار ہو عیدوں کے موقع پر بھی مہنگائی کا ’’ جن ‘‘ بوتل سے باہر آکر غریبوں اور سفیدپوشوں کو ’’خون کے آنسو ‘‘ رلاتا ہے۔ ہم نے ہر معاملے میں یہود و نصریٰ کی پیروری کو کامیابی کا ذریعہ بنا لیا ہے ان کی دیکھا دیکھی ’’ بلیک فرائی ڈے، ویلنٹائن ڈے وغیرہ منانا شروع کر دیا ہے کاش ہم ان سے کرسمس، ایسٹڑ ڈے وغیرہ کے موقع پر غریبوں اور سفیدپوش طقبے کی ’’ خوشیاں ‘‘ دوبالا کرنے کی حقیقت سمجھ سکتے ۔ یہود و نصریٰ اپنے مذہبی دنوں کو منافع کمانے کی بجائے سب کو خوشیوں میں شریک کرنے کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں اور یہودونصریٰ کی تاجربرادی بغیر نفع کے اپنی عوام کو اشیاء مہیا کرتے ہیں مگر ہم ہر معاملے میں یہود نصریٰ کی پیروری کرتے ہیں مگر اپنے اسلامی تہواروں میں قیمتوں میں من مانا اضافہ کرتے ہیں ۔ حتیٰ کہ حج اور عمرہ جیسی عظیم عبادات کے مواقع پر بھی اپنے بھائیوں کو لوٹنے سے باز نہیں آتے ۔اپنے معصوم مسلمانوں کو ’’ عمرہ پیکج ‘‘ دیتے وقت قریب ترین رہائش ، صاف ستھرے کمرے ، تمام سہالیات کے سبز باغ دیکھاتے ہیں ، عموماً تمام عمرہ پیکج میں ’’زیارتیں کروانے کی یقین دہانی کروائی جاتی ہیں اور عمرہ پیکج میں اچھی خاصی رقم زیارتوں کے نام پر جمع کی جاتی ہے مگر عملی طور پر پاکستانی مسلمانوں نے اب زیارتیں کروانا بند کر دی ہیں ۔ کچھ بے چارے عمرہ کی سعادت حاصل تو کرتے ہیں مگر زیارتوں سے مستفید نہیں ہوتے اور کچھ لوگ اپنے بل بوتے پر زیارتوں پر حاضری دیتے ہیں ۔ عام آدمی کا وہ پیسہ جو زیارت کے نام پر جمع ہوتا ہے وہ ’’ ہڑپ ‘‘ کر لیا جاتا ہے اگر کوئی اس مسئلے کو اٹھائے تو ’’ اونٹ کے منہ میں زیرہ‘‘ کچھ نہ کچھ واپس کر دیتے ہیں ، 
اسی طرح جب ویزہ لگوایا جاتا ہے تو اچھے ہوٹل کا اڈریس دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والوں کو ویڈیوکالنگ کے زریئے ہوٹل ، خانہ خدا ، روزہ ِ رسول ﷺ دیکھایا جاتا ہے تا کہ مطمن کیا جا سکے۔ حکومت پاکستان کا کام بنتا ہے کہ اپنے شہریوں کو دھوکہ فراڈ سے بچایا جائے اور ’’ عمرہ کروانے والے ‘‘ ایجنٹوں اور کمیشن مافیا کو پابند کیا جائے تاکہ عمرہ کا ویزہ لگواتے وقت جو ہوٹل دیکھایاجائے اسی میں رہائش مہیا کی جائے۔ ہوٹل کے جس اسٹار کی بکنگ ہوئی ہو اسی معیار پر سمجھوتا نہ کیا جائے۔ 
ضرورت اس امر کی ے کہ جو اﷲ پاک اور آقا دوجہاں ﷺ کے گھر کی زیارت کے لئے جانا چاہتے ہیں ان کو گاہک سمجھ کر نہیں بلکہ’’ خدا کا مہمان ‘‘سمجھ کر اچھا برتاؤ کیا جائے تمام اشیاء کی حقیقت سے روشناس کروایا جائے تاکہ ’’ اﷲ کے مہمانوں کی دل اوزاری نہ ہو۔
حکومت پاکستان کو بھی اس سنگین اور احساس معاملے پر کڑی نظر رکھنی چاہیے تاکہ ناجائز منافع خور حاجیوں اور عمرہ کرنے والوں کی جیبوں پر ڈاکہ نہ ڈال سکے اور زیادہ سے زیادہ اہل ایمان اﷲ اور رسول اﷲ ﷺ کے گھر کے مہمان بن سکیں !

سوال (1):اہل بدعت کو جب بدعت پہ خبردار کرتے ہیں یا ان کے متعلق دوسروں کو ان کی خرافات سے بچنے کی دعوت دیتے ہیں تو لوگ اسے مسلمان کے تئیں غیبت قرار دیتے ہیں آپ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں ؟

جواب : نبی اکرم صلی اﷲ علیہ و سلم نے منکر کو مٹانے کا حکم دیا ہے لہذا ہمارا کام منکر کو مٹانا ہو۔ منکر میں کفر ، شرک ، بدعت ، خرافات اور فسق و فجور سبھی داخل ہیں ۔ منکر مٹانا اور منکر انجام دینے والوں کا رد کرنا سنت رسول ہے اسے غیبت نہیں کہیں گے۔

سوال (2): میرا شوہر پردیش میں بنک سے الگ ہوکر حساب وکتاب(آڈٹ) کا کام کرتا ہے ، اس کام میں لوگوں کے اکاؤنٹ کی تفاصیل بتلانی ہوتی ہے نیز ان لوگوں کے سودی قرضے ہوتے ہیں توان کی تفاصیل بھی آڈٹ کرنا پڑتا ہے کیا یہ کام سود کے دائرے میں آتا ہے؟

جواب : اگر آڈٹ کا کام جنرل ہے یعنی سبھی جائز جگہوں پہ اور ساری عام کمپنیوں کے لئے آڈٹ کرتے ہیں تو اس نوکری میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ برائی کے کاموں پر تعاون سے پرہیز کرنا چاہئے لیکن اگر آڈٹ کا کام صرف سودی بنکوں کے کلائنٹوں کے لئے ہے جن کا اکاؤنٹ چیک کرنا ہوتا ہے تو یہ سود پہ تعاون ہے اور ایسی نوکری جائز نہیں ہے ۔

سوال (3):سورہ کہف کی انیسویں آیت کا ایک لفظ ہے "ولیتلطف" جس کاترجمہ ہے نرمی سے بات کرنا۔ یہ تھوڑا بڑا کرکے قرآن میں لکھا ہوا ہوتا ہے کیونکہ یہ قرآن پاک کے درمیان میں آتا ہے ۔ مولانا طارق جمیل صاحب کہتے ہیں کہ یہ لفظ پورے قرآن کا خلاصہ ہے اس سلسلے میں ہم آپ سے صحیح رہنمائی چاہتے ہیں ۔

جواب :یہ لفظ وسط قرآن ہیکہنا صحیح نہیں ہے ۔اکثرمفسرین نے سورہ کہف کی 74 آیت کے لفظ" نکرا "کا نون وسط کہا ہے۔ ہندوستان و پاکستان والوں کا قرآن میں ولیتلطف کو بڑاکرنا اپنی طرف سے زیادتی ہے۔ سعودی کے قرآن میں ایسا نہیں ہے جہاں قرآن اترا بلکہ تفسیر ابن کثیر اور طبری وغیرہ میں اس لفظ پر کوئی بحث موجود نہیں ہیاس لئے اس لفظ کی اپنی جانب سے کوئی خصوصیت ذکر کرنا صحیح نہیں ہے ۔ ولیتلطف کا جو معنی ومفہوم نکلتا ہے بس اسے بیان کرنا چاہئے۔

سوال (4): مجھے مندرجہ ذیل حدیث کا مفہوم جاننا ہے ۔ " میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: آدمی ( نماز پڑھ کر ) لوٹتا ہے تو اسے اپنی نماز کے ثواب کا صرف دسواں، نواں، آٹھواں، ساتواں، چھٹا، پانچواں، چوتھا، تیسرا اور آدھا ہی حصہ ملتا ہے" ابوداؤد:796ُُ

جواب : اوپر والی حدیث ابوداؤد کی شرح عون المعبود میں لکھاہے کہ نماز کے ارکان ' شروط اور خشوع و خضوع وغیرہ میں خلل کی وجہ سے نماز کے اجر میں فرق پڑتا ہے۔

سوال (5):الباقیات الصالحات سے کیا مراد ہے اور اس کی وجہ تسمیہ کیا ہے ؟

جواب : وَالْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ خَیْرٌ عِندَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَخَیْرٌ مَّرَدًّا (مریم:76)
ترجمہ: اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہے ۔
یہاں " الباقیات الصالحات" (باقی رہنے والی نیکیاں) سے بعض علماء نے "سبحان اﷲ والحمد ﷲ ولا إلہ إلا اﷲ واﷲ أکبر" کہا ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد تمام قسم کے اعمال صالحہ ہیں ۔
اورالباقیات الصالحات کی وجہ تسمیہ کے متعلق علماء بیان کرتے ہیں کہ اس کا اجر آدمی کے لئے باقی رہتا ہے اور کبھی وہ فانی نہیں ہوتااس لئے اسے الباقیات الصالحات کہا جاتا ہے۔

سوال (6): مشروم حلال ہے یا مکروہ ہے ؟
جواب : یہ زمین سے اگنے والی ایک قسم کی سبزی ہے ۔ اس کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں ، بعض میں انسانی جسم کے نقصان اور بعض جسمانی اعتبار سے مفید ہے ۔ جس قسم کے مشروم میں نقصان دہ کوئی پہلو نہ ہو تو اسے بلا حرح غذا کے طور پر استعما ل کیا جاسکتا ہے۔

سوال (7): اس حدیث کا مطلب سمجھا دیں.
اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے رازداری سے مدد لو کیونکہ ہر اُس انسان سے (لوگوں کی طرف سے) حسد کیا جاتا ہے جس پر اﷲ کی طرف سے نعمت کی گئی ہو(صحیح الجامع للالبانی : 943، السلسلۃ الصحیحۃ الالبانی : 1453)
جواب : اگر کسی مسلمان کو اﷲ کی طرف سے کوئی نعمت ملے تو اسے بیان کرنا چاہئے اس سے نعمت کی قدر اور اﷲ کا شکر ظاہر ہوتا ہے ۔ اﷲ نے نبی ? کو اس بات کا حکم بھی دیا ہے۔

وَأَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ (الضحی:11)
ترجمہ: اور اپنے رب کی نعمتوں کا تذکرہ کریں۔
ہاں اگر کسی خاص نعمت کے بیان کرنے سے بغض وحسد کا اندیشہ ہو تو نعمت کا ذکر خصوصیت کے ساتھ نہ کریں بلکہ عمومی انداز میں کریں تاکہ آپ کی اس خاص نعمت کا حاسد کو پتہ نہ چلے جیساکہ اﷲ تعالی نے قرآن میں ذکر کیا ہے۔

قَالَ یَا بُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُؤْیَاکَ عَلَی إِخْوَتِکَ فَیَکِیدُوا لَکَ کَیْدًا(یوسف:5)
ترجمہ: یعقوب علیہ السلام نے کہا پیارے بچے ! اپنے اس خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا، ایسا نہ ہو کہ وہ تیرے ساتھ کوئی فریب کاری کریں ۔
اس آیت میں خواب کی نعمت وبشارت کو اپنے حاسد بھائی سے چھپانے کا ذکر ہے۔
اورفرمان نبوی ہے ۔
استعینوا علی إنجْاحِ الحوائِجِ بالکتمانِ ؛ فإنَّ کلَّ ذی نعمۃٍ محسودٌ(صحیح الجامع:943)
ترجمہ: لوگوں سے چھپاکر اپنے مقاصد کی کامیابی پرمدد طلب کرو کیونکہ ہر نعمت والا حسد کیا جاتا ہے۔

سوال (8): ایک عورت نفل روزے کی نیت کی تھی دوپہر کے وقت بھول کر پیٹ بھر کھانا کھا لیا اس کا روزہ ٹوٹ گیا یا کوئی اور حکم ہے ؟
جواب:فرض روزہ ہو یا نفل بھول کر کھا پی لینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا خواہ کم کھائے یا زیادہ۔

سوال (9):"سبحان اﷲ و بحمدہ سبحان اﷲ العظیم"سوبار ہی پڑھنا ہے یا اس سے زیادہ بھی پڑھ سکتے ہیں ۔ میری عادت یہ ہے کہ کام کاج کرتے ہوئے پڑھتی رہتی ہوں کبھی 150، تو کبھی دو ڈھائی سو بھی ہوجاتے ہیں کیا ایسا کرنا بدعت کے زمرے میں آئے گا؟
جواب:ذکرمیں سنت یہ ہے کہ جہاں تعداد وارد ہے وہاں تعداد کے حساب سے ذکر کرنا چاہئے اور جہاں تعداد وارد نہیں وہاں تعداد متعین کرکے ذکر کرنابدعت ہے ۔ اگر کسی ذکر کے لئے مثلا 100 مرتبہ تعداد متعین ہے تو آپ بغیر تعیین کے 100 سے زائد بار بھی ذکر کرسکتے ہیں مگر 100 سے زائد بار متعین کرکے ذکر کرنا بدعت کہلائے گا۔ بطور مثال آپ نے 100 دفعہ والے ذکر کو150 فکس کرکے ذکر کرنا شروع کیا تو بدعت ہے مگر یونہی 150 ، 200 یا اس سے زیادہ ہوجائے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔

سوال (10): اگر کوئی عورت فجر کے بعد دو رکعت اشراق پڑھنا چاہے اور سورج نکلنے تک ٹیک لگا کر ذکر کرتی یہاں تک کہ دو رکعت ادا کرلے تو کیا اسے پورے حج وعمرہ کا ثواب ملے گا اورکیا جگہ تبدیل کرنے سے پورے حج اور عمرہ کا ثواب نہیں ملتا ہے ؟
جواب:حج و عمرہ کا ثواب اس کو ملے گا جس نے فجر کی نماز جماعت سے ادا کی اور وہ وہیں بیٹھا ذکر کرتا رہا ۔شیخ ابن باز نے کہا کہ اس میں عورت بھی داخل ہے مگر شیخ ابن عثیمین نے کہا کہ اس میں عورت داخل نہیں ہے کیونکہ وہ جماعت سے نماز نہیں پڑھتی ،ہاں اگر نماز پڑھ کر وہیں بیٹھی رہی اور ذکر کرتی رہی پھر دو رکعت نماز ادا کی تو خیر و بھلائی ہے۔

سوال (11): قرآن حفظ کرنے کے دوران ایک سورہ کو کئی دفعہ دہرانا ہوتا ہے تو ہر بار شروع کرنے سے پہلے بسم اﷲ الرحمن الرحیم پڑھیں گے یا نہیں؟
جواب: قرآن شروع کرتے وقت ایک بار بسم اﷲ کہیں گے اور وہ بھی وہاں پرجہاں بسم اﷲ آیا ہے یعنی سورت کے شروع میں مگر ہم نے درمیان سورت سے قرآن پڑھنا شروع کیا ہے تو صرف تعوذ یعنی اعوذ باﷲ کہنا ہے۔

سوال(12): کیا إسرائیل یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا اگر ہاں تو اس طرح کہنا اسرائیل دہشت گرد ہے، اسرائیل خائن ہے، اسرائیل ناحق خون کررہا ہے، اسرائیل ظالم ہے وغیرہ کیسا ہے ؟
جواب: اسرائیل کو برا بھلا نہیں کہنا چاہئے بلکہ یہودی اور صہیونی کو گالی دینا چاہئے کیونکہ اسرائیل یعقوب علیہ السلام کا نام تھا۔

سوال(13): یہودیوں کے ظلم اور مکاری کی وجہ سے ہم یہودی پروڈکٹ کا بائیکاٹ کرتے ہیں لیکن پھر بھی کچھ چیزیں جو دوسری کمپنی کا حلال نہیں لیکن یہودی کمپنی کا حلال ہے(مثلاً nescafe یہودی کمپنی osem کے ساتھ شئیر ہے لیکن اسکی coffee کا ingredients حلال ہے) تو کیا یہ بائیکاٹ درست ہے اور کیا ہم اسی طرح یہودی یا کسی غیر مسلم کے حلال پروڈکٹ خرید سکتے ہیں؟
جواب: اگر یہودی مصنوعات کا بدل موجود ہے جو مسلمانوں کی تیار کردہ ہے تو اسے استعمال کرنا بہتر ہے تاکہ مسلم تجارت کی مدد ہو لیکن بدل نہیں موجود ہے کافروں کی تیار کردہ ہے تو یہودی یا ہندو یا دوسرے کافر سارے اسلام کے دشمن ہیں ، مجبوراان سب کا حلال سامان استعمال کرسکتے ہیں ۔ ہاں اگر یہودی سے متعلق سارے مسلمان کسی خاص پس منظر میں مثلافلسطینی مسلمان پرظلم کے پس منظر میں اس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہئے تو ہمیں ایک دوسرے مسلمان کا ساتھ دیتے ہوئے یہودی مصنوعات کابائیکاٹ کرنا چاہئیتاکہ تجارتی گھاٹے سے یہودی کو سبق ملے ۔

سوال(14): اکثر غیر مسلموں کے تہوار پر بعض چیزیں آفراور ڈسکاؤنٹ پر ملتی ہیں، آن لائن یا آف لائن ہر جگہ یہی حال ہے تو کیا ہمیں غیر مسلموں کے تہوار پر ڈسکاؤنٹ میں ملنے والی چیزیں لینی چاہئے جبکہ ہم عام دنوں میں بھی وہ چیزیں خریدتے ہیں؟
جواب: تہوار کے موقع سیاس قسم کے آفر سے فائدہ اٹھانے پر کوئی حرج نہیں ہے۔

سوال(15):جب گھر میں بڑے بزرگ بے نمازی یا بے دین ہوتو چھوٹا آدمی اسے کیسے سمجھائے ؟
جواب: اپنے سے بڑوں کو سمجھنا واقعی ذرا مشکل ہے، ہمیں حکمت سے برابر سمجھاتے رہنا چاہئے ماننا نہ ماننا ان کا کام ہے ، ہم نے حکمت کے ساتھ ان پر صحیح بات پیش کردی تو ہمارا فریضہ ادا ہوگیا اﷲ تعالی ہم سے اس فریضہ کے بارے میں سوال نہیں کرے گا۔ ساتھ ساتھ ان کی ہدایت کے لئے دعا کرتے رہیں ، آپ سے نہ سمجھ پائے تو دوسروں کے ذریعہ سمجھائیں یا دینی پروگرام میں لے جائیں ۔یعنی اپنی بساط بھر کوشش کریں ۔

سوال (16) : ایک خاتون اپنے بریلوی شوہر سے خلع لینا چاہتی ہے جب عورت شوہر سے خلع لے گی تو کیا خاوند عورت کو خرچ دے گا اور اولاد کس کے پاس رہے گی؟
جواب : شرعی عذر کے بنیاد پرشوہر سے خلع لینا جائز ہے ، خلع لینے کے بعد عورت ایک حیض جہاں چاہے عدت گزارے گی اور اس عورت کے لئے سابق شوہر کی طرف سے نہ رہائش ہے اور نہ ہی خرچ تاہم اگر وہ حاملہ ہوتو وضع حمل تک نان ونفقہ اور رہائش ہے۔

اسلام میں عورت کو ہی بچے کی پرورش کا زیادہ حق ملا ہے لیکن عورت عدت گزارکر کسی اور مرد سے دوسری شادی کرلے تو اس صورت میں بچے کی پرورش کا حقدار بچوں کاباپ ہوگا اور جب بچہ باشعور ہوجائے تو اسے اختیار ہے ماں باپ میں سے جسے اختیارکرے ۔ بچہ ولادت کے بعد جہاں بھی رہے اس وقت سے بلوغت تک اس کا خرچ باپ کے ذمہ ہے ۔

سوال (17): کیا درود پڑھتے وقت اپنی جانب سے کچھ الفاظ اضافہ کردینا بدعت تو نہیں مثلا اللھم صلی علی سیدنا محمد ۔اس میں سیدنا کا لفظ زیادہ ہے اس کا کیا حکم ہے؟
جواب : درود پڑھنے میں انہیں الفاظ کا استعمال کرنا چاہئے جن کی نبی ? نیہمیں تعلیم دی ہے البتہ مختصرا نبی ? پر درود پڑھتے ہوئے بغیر تعیین کے مناسب الفاظ استعمال کئے جائیں تواس میں کوئی حرج نہیں ہے مثلا یہاں سید کا لفظ مناسب ہے اسے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ حرج اس میں ہے کہ کوئی شخص اپنی جانب سے درود کے الفاظ وضع کرلے اور اسے ہی مخصوص کرکے پڑھتا رہے ۔
سوال (18): میری امت میں بنو تمیم کے لوگ اہل شرک پر مضبوط اور بھاری ہوں گے اور قیامت تک کعبہ کی چابھی اس کے پاس رہے گی ۔ اس قسم کی حدیث کی صحت درکار ہے۔
جواب : اس میں دوباتیں ہیں دونوں صحیح نہیں ہیں ۔ پہلی بات جو صحیح ہے وہ اس طرح ہے ۔

ہم أشدُّ أُمَّتی علَی الدَّجَّالِ(صحیح البخاری:2543)
ترجمہ: یہ لوگ(بنوتمیم والے) دجال کے مقابلے میں امت میں سے سب سے زیادہ سخت مخالف ثابت ہوں گے۔

اور دوسری بات یہ بنوتمیم قیامت تک کعبہ کی کلیدبرداری کریں گے وہ بھی صحیح نہیں ہے ، یہ بات قبیلہ بنوشیبہ کے متعلق نبی ﷺ نے فرمائی تھی جب 8 ہجری میں مکہ فتح ہوا۔حافظ ابن حجر ؒنیتہذیب میں لکھا ہیکہ نبی ﷺ نے شیبہ بن عثمان بن ابی طلحہ اور عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ کو بلایا اور انہیں کعبہ کی چابھی سونپتے ہوئے فرمایاکہ یہ اب ہمیشہ کے لئے تمہارے پاس رہے گی ، تم سے ظالم کے علاوہ کوئی نہیں چھین سکتا ۔ انتہی۔ اور اس وقت سے اب تک بنوشیبہ میں ہی کلید برداری کی خدمت موجود ہے۔ ہاں بنوتمیم کے بڑے فضائل ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ وہ قریش سے پہلے کلید برداری کرتے رہے ہیں۔

سوال (19) سردی کے موسم میں ایک نمازی کے لئے شریعت کی طرف سے کیا آسانی ہے ؟
جواب : سردی کا موسم مومن کے لئے موسم بہار ہے ، اس میں عبادت کے پہلو سے خیر ہی خیر ہے۔ شعب الایمان اور مسند احمد وغیرہ میں ایک روایت ہے ۔ الشِّتاء ُ ربیعُ المؤمنِ ، قصُرَ نہارُہُ فصامَ ، وطالَ لیلُہُ فقامَ۔
ترجمہ:سردی مومن کے لئے موسم بہار ہے اس کے دن چھوٹے ہوتے ہیں تو وہ روزہ رکھ لیتا ہے اور راتیں لمبی ہوتی ہیں تو قیام کرلیتا ہے۔
شیخ البانی نے اس کی سند میں ضعف بتلایا ہے تاہم اسلاف سے موسم سرما میں خوش ہونے اور اس سے بکثرت فائدہ اٹھانے کا ذکر ملتا ہے۔ایک صحیح روایت اس طرح ہے ۔الغَنیمۃُ الباردۃُ ،الصَّومُ فی الشِّتاء ِ(صحیح الترمذی:797)
ترجمہ: بڑی غنیمت ٹھنڈی ہے کہ اس میں روزہ رکھا جائے۔

عبادت کے اعتبار سے اس موسم میں بڑی غنیمتیں ہیں البتہ ٹھنڈک میں لوگوں کے لئے ضرر بھی ہے اس لئے زمانے میں ٹھنڈی کے ضرر سے بچنے کی جو بھی سہولت ہے اختیار کرسکتے ہیں ۔ مثلا گرم پانی سے وضو یا غسل کرنا، مسجدوں میں ہیٹر وغیرہ کا انتظام کرنا، وضو کرکیلگائیہوئے موزے پر مسح کرنا، گرم لباس پہن کر عبادت کرنا، قالین پر نماز پڑھنا۔اسی طرح ایک وضو سے دوسرے وقتوں کی نماز ادا کرسکتے ہیں ۔ یہ یاد رکھیں کہ وضو یا غسل طہارت کرنے والے مسلمان ہی صرف ٹھنڈی میں بیمار نہیں پڑتے بلکہ نرم وگرم بستروں میں عیش کرنے والے بھی بیمار پڑتے ہیں ۔ بیماری اور شفا اﷲ کی طرف سے ہے ، مومن کے لئے بیماری میں اجر اور کافر کے لئے سراپا تکلیف ہے۔ اس لئے ایک مومن کو اﷲ کے احکام کی تعمیل میں ہی آسانی ہے۔

سوال(20): کیا سردی میں ٹوپی پر مسح کرسکتے ہیں جیساکہ رسول اﷲ ﷺ نے عمامہ پر مسح کیا ہے ؟
جواب : سردی ہو یا گرمی نبی ﷺ نے عمامہ پر مسح کیا ہے تو عمامہ پر ہی مسح کرنا جائز ہوگا، اس لئے کوئی سردی کے موسم میں ٹوپی پر مسح نہیں کرسکتا۔

سوال(21): حلال جانور کا پاخانہ وضو کی حالت میں لگ جائے تو کیا وضو ٹوٹ جائے گا ؟
جواب : حلال جانور کاپیشاب وپاخانہ دونوں پاک ہیں ، کپڑے میں لگ جانے سے کپڑا ناپاک نہیں ہوتااور وضو ٹوٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ نجاست کے چھونے یا لگنے سے وضو نہیں ٹوٹتا جہاں نجاست لگے وہ جگہ ناپاک ہوگی۔تاہم کپڑے پر ماکول اللحم جانور کا پیشاب یا پاخانہ لگ جائے تو اسے صاف کرلینا چاہئے ۔

سوال (22): تم قیامت کے دن اپنے اور اپنے باپ کے نام کے ساتھ پکارے جاؤگے اس لئے اچھے نام رکھا کرو، ابوداؤد کے حوالے سے کیا یہ حدیث صحیح ہے ؟
جواب : ابوداؤد میں کتاب الادب کے تحت 4948 کی حدیث ان الفاظ کے ساتھ وارد ہے۔
"إنکم تدعون یوم القیامۃ بأسمائکم وأسماء آبائکم فأحسنوا أسماء کم"
اس حدیث کی سند میں ضعف ہے جیساکہ شیخ البانی اور دیگر محدثین نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ تاہم نصوص سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قیامت میں باپ کے نام سے پکارا جائے گا۔

سوال(23): کیا وہ شخص لقمہ دے سکتا ہے جوجماعت میں ابھی شامل نہیں ہوا ہو؟
جواب : اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ شخص جو ابھی نماز میں شامل نہیں ہوا ہے اس نے امام سیقرات میں کوئی بھولتے دیکھا تو لقمہ دیدے ۔

سوال (24): فقیر اور مسکین کی صحیح تعریف بتلائیں ۔
جواب : فقیر وہ ہے جواپنی ضروریات پورا کرنے کے قابل نہ ہو اوراس وجہ سے لوگوں سے مانگتا ہو اور مسکین وہ ہے جو محتاج ہو مگر اپنی ضرورتوں کو لوگوں کے سامنے نہ بیان کرتا ہو۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
لیس المسکینُ الذی یطوفُ علی الناسِ ، تَرُدُّہُ اللُّقمۃُ واللقمتانِ ، والتمرۃُ والتمرتانِ ، ولکنَّ المسکینَ : الذی لا یجدُ غِنًی یُغْنِیہِ ، ولا یُفْطَنُ بہِ فیُتَصَدَّقْ علیہِ ، ولا یقومُ فیسألَ الناسَ .( صحیح البخاری:1479)
ترجمہ: مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کے پاس پھرتا ہے تاکہ اسے ایک دو لقمہ یا ایک دو کھجور مل جائے بلکہ مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ اس کے ذریعہ سے بیپرواہ ہو جائے۔ اس حال میں بھی کسی کو معلوم نہیں کہ کوئی اسے صدقہ ہی دیدے اور نہ وہ خود ہاتھ پھیلانے کے لیے اٹھتا ہے۔

سوال(25): اپنے کسی عزیز کی سخت ضعیفی کی حالت پہ اس قسم کے جملے کہنا کیسا ہے ؟ اﷲ ان کے حق میں بہتر کرے، یا اﷲ ان کے حق میں آسانی کرے۔
جواب : اس میں کوئی حرج نہیں ، یہ دونوں دعائیہ جملے ہیں ۔

سوال(26): اپنے وطن سے محبت کرنے کا اسلامی نظریہ کیا ہے ؟
جواب : وطن سے محبت کرنافطری امر ہے ، اسلام نے اس سے کسی کو منع نہیں کیا ہے بلکہ وطن کی محبت کا اظہار نبی ? سے اور ہمارے اسلاف سے ملتا ہے ۔ ہاں یہ دھیان رہے کہ وطن کی محبت کو دین وایمان نہ سمجھے اور نہ ہی حب الوطنی میں غلو کرے یعنی وطن کی محبت کو دین کے کسی حکم پر ترجیح دے یا اس کی تعریف میں جھوٹی بات کہے یا حد سے تجاوز کرے۔ محبت اعتدال میں رہے تاکہ غلو اور تجاوز سے بچارہے۔

سوال(27): کیا حائضہ عورت میت کو غسل دے سکتی ہے ؟
جواب : حائضہ ، نفساء اور جنبی عورتوں کا میت کو غسل دینے اور کفن دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ، اس سلسلے میں ممانعت پہ کوئی نص وارد نہیں ہے ۔

سوال(28): پنچ وقتہ نمازوں کی وجہ تسمیہ کیا ہے ؟
جواب : ترمذی کی مندرجہ ذیل روایت میں نمازوں کے اسماء اور ان کی وجہ بیان کی گئی ہے۔طوالت کی وجہ سے صرف ترجمہ پیش کرتا ہوں۔
عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا: جبرئیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کے پاس میری دوبارامامت کی،پہلی بارانہوں نے ظہر اس وقت پڑھی (جب سورج ڈھل گیااور)سایہ جوتے کے تسمہ کے برابرہوگیا، پھرعصراس وقت پڑھی جب ہرچیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہوگیا،پھر مغرب اس وقت پڑھی جب سورج ڈوب گیا اورصائم نے افطار کرلیا، پھر عشاء اس وقت پڑھی جب شفق غائب ہوگئی، پھرصلاۃِ فجر اس وقت پڑھی جب فجرروشن ہوگئی اورصائم پرکھاناپینا حرام ہوگیا، دوسری بارظہرکل کی عصرکے وقت پڑھی جب ہرچیز کا سایہ اس کے مثل ہوگیا، پھر عصراس وقت پڑھی جب ہرچیز کا سایہ اس کے دومثل ہوگیا، پھر مغرب اس کے اوّل وقت ہی میں پڑھی (جیسے پہلی بارمیں پڑھی تھی) پھر عشاء اس وقت پڑھی جب ایک تہائی رات گزرگئی، پھرفجراس وقت پڑھی جب اجالا ہوگیا، پھرجبرئیل نے میری طرف متوجہ ہوکر کہا:اے محمد! یہی آپ سے پہلے کے انبیاء کے اوقاتِ صلاۃ تھے، آپ کی صلاتوں کے اوقات بھی انہی دونوں وقتوں کے درمیان ہیں۔( صحیح الترمذی:149)

Islamcrunch

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget